حدیث نمبر: 8416
عَنْ أَبِي جُحَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ عَلِيمًا حَكِيمًا غَفُورًا رَحِيمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن حکیم سات قراء ات پر نازل ہوا، اسی لیے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کے بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھا جا سکتا ہے۔

(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ عَلِيمًا حَكِيمًا غَفُورًا رَحِيمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن حکیم سات قراء ات پر نازل ہوا، اسی لیے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کے بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھا جا سکتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … علامہ سندھی نے کہا: اس حدیث کے دوسرے حصے کا معنییہ ہے کہ عَلِیْمًا حَکِیْمًا کی جگہ پر غَفُوْرًا رَحِیْمًا یا اس کے برعکس پڑھنا جائز ہے۔ واللہ اعلم۔ طبری اور ابن عبد البر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ، فَاقْرَؤُوْا وَلاَ حَرَجَ، وَلٰکِنْ لاَ تَخْتِمُوا ذِکْرَ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ، وَلاَ ذِکْرَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ۔)) … بیشکیہ قرآن سات قسم کی لغات پر نازل ہوا، پس تم کسی بھی لغت میں اس کی تلاوت کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا، البتہ اتنا خیال رکھو کہ رحمت کے ذکر کو عذاب کے ذکر کے ساتھ اور عذاب کے ذکر کو رحمت کے ذکر کے ساتھ ختم نہ کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب جواز اختلاف القراءات والنهي عن الجدال فيها / حدیث: 8416
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه النسائي في الكبري : 8093، وابويعلي: 6016، وابن حبان: 74 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: غير محدد»