حدیث نمبر: 8414
عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَقَالَ مَنْ أَقْرَأَكَ هَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَذَهَبَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ آيَةُ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَرَأَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَقَالَ الْآخَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَرَأَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَيْسَ هَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيَّ ذَلِكَ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَحْسَنْتُمْ وَلَا تَمَارَوْا فِيهِ فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ أَوْ آيَةُ الْكُفْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ قرآن مجید کی آیت پڑھ رہا تھا،انہوں نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے یہ آیت پڑھائی ہے؟ اس نے کہا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، انہوں نے کہا: لیکن مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور انداز میں پڑھائی ہے، پس وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آیت اس طرح ہے، پھر اس نے اس کی تلاوت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آیت اس طرح نازل نہیں ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح بھی نازل ہوئی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قرآن مجید سات قراء توں پر نازل ہوا ہے، اس میں سے جس کے مطابق بھی پڑھو، درست ہے، اس قرآن میں جھگڑا مت کرو، کیونکہ اس میں جھگڑا کرنا کفر یا کفر کی علامت ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب جواز اختلاف القراءات والنهي عن الجدال فيها / حدیث: 8414
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17975»