الفتح الربانی
أبواب جواز اختلاف القراءات والنهي عن الجدال فيها— قراء ات، ان میں اختلاف کا جواز اور ان کے بارے میں جھگڑنے سے ممانعت کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ مِنْ ذلِكَ عَامَّا وَاخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ فيه باب: قراء توں کے بارے میں عام روایات اور اس مسئلہ میں صحابہ کے اختلاف کا بیان
عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَقَالَ مَنْ أَقْرَأَكَ هَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَذَهَبَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ آيَةُ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَرَأَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَقَالَ الْآخَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَرَأَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَيْسَ هَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيَّ ذَلِكَ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَحْسَنْتُمْ وَلَا تَمَارَوْا فِيهِ فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ أَوْ آيَةُ الْكُفْرِ۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ قرآن مجید کی آیت پڑھ رہا تھا،انہوں نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے یہ آیت پڑھائی ہے؟ اس نے کہا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، انہوں نے کہا: لیکن مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور انداز میں پڑھائی ہے، پس وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آیت اس طرح ہے، پھر اس نے اس کی تلاوت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آیت اس طرح نازل نہیں ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح بھی نازل ہوئی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قرآن مجید سات قراء توں پر نازل ہوا ہے، اس میں سے جس کے مطابق بھی پڑھو، درست ہے، اس قرآن میں جھگڑا مت کرو، کیونکہ اس میں جھگڑا کرنا کفر یا کفر کی علامت ہے۔