حدیث نمبر: 8413
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَقُمْنَا جَمِيعًا فَدَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ هَذَا فَقَرَأَ قِرَاءَةً غَيْرَ قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَآ فَقَرَآ فَقَالَ أَصَبْتُمَا فَلَمَّا قَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قَالَ كَبُرَ عَلَيَّ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي غَشِيَنِي ضَرَبَ فِي صَدْرِي فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَقًا فَقَالَ يَا أُبَيُّ إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأَهُ عَلَى حَرْفَيْنِ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ فِيهِ الْخَلْقُ حَتَّى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں تھا، ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس نے ایسی قراء ت کی، جس کا میں نے انکار کیا، اتنے میں ایک اور آدمی داخل ہوا تو اس نے پہلے والے فرد کی قراء ت کے خلاف قراء ت کی، ہم اٹھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے گئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے جو قراء ت کی ہے، میں اسے بھی نہیں جانتا، پھر یہ دوسرا داخل ہوا ہے، اس نے اس کے خلاف قراء ت کی ہے، اس کو بھی میں نہیں جانتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے کہا: پڑھو۔ جب انہوں نے تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے درست پڑھا ہے۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کو درست قرار دیا تو یہ بات مجھ پر بہت گراں گزری، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ گرانی مجھ پر غالب آ گئی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، تو مجھے اتنا پسینہ آیا کہ میں بھیگ گیا اور مجھے ایسا لگا کہ میں ڈر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہاہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابی! میرے ربّ تعالیٰ نے میری طرف پیغام بھیجا کہ قرآن مجید کو ایک قراء ت پر پڑھوں، میں نے درخواست کی کہ میری امت پر آسانی کرو، پس اللہ تعالیٰ دو قراء توں پر پڑھنے کا پیغام بھیجا، میں نے پھر گزارش کی کہ میری امت پر آسانی کرو، پس اللہ تعالیٰ نے سات قراء توں پر قرآن کی تلاوت کرنے کا پیغام بھیجا، نیز جتنی دفعہ آپ نے مطالبہ کیا، اتنے مجھ سے سوال کر سکتے ہو، میں نے کہا: اے اللہ! میری امت کو بخش دو، اے اللہ ! میری امت کو بخش دو، تیسری دعا میں نے اس دن کے لئے موخر کر دی ہے جس دن مخلوق میرے پاس آئے گی،یہاں تک کہ ابراہیم علیہ السلام بھی۔

وضاحت:
فوائد: … مراد یہ ہے کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزارش کریں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کے سامنے سفارش کریں کہ وہ اپنی مخلوق کا حساب و کتاب شروع کرے، اس کو شفاعت ِ عظمی کہتے ہیں۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں احادیث نمبر (۱۳۰۹۷)(۱۳۱۰۴) اور ان کے فوائد۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب جواز اختلاف القراءات والنهي عن الجدال فيها / حدیث: 8413
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 820 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21498»