الفتح الربانی
أبواب الغسل من الجنابة وموجباته— غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب
بَابٌ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ وَلَوْ لَمْ يُنْزِلْ باب: ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
حدیث نمبر: 841
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جاتا ہے اور اپنی ختنے والی جگہ اس کی ختنے والی جگہ سے ملا دیتا ہے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی تمام احادیث کا اصل مدّعا یہ ہے کہ جب میاں بیوی کے ختنوں کے مقامات آپس میں مل جائیں گے تو جنابت والا غسل فرض ہو جائے گا، انزال ہو یا نہ ہو۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ مرد کے عضو ِ خاص میں ختنے کی وجہ سے کیا تبدیلی آتی ہے۔ اسی طرح عورت کا ختنہ عربوں کے ہاں معروف تھا، لیکن ہمارے ہاں عورتوں کے ختنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ بہرحال صرف دو شرمگاہوں کے ٹکرانے سے غسل واجب نہیں ہو گا، بلکہ یہ غسل اس وقت فرض ہو گا، جب مرد کے ختنے کی جگہ عورت کی شرمگاہ کے اندر داخل ہو گی۔ عورت کی چارشاخوں سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، مثلا: (۱)دونوں ہاتھ اور دونوں ٹانگیں، (۲) دونوں ٹانگیں اور دونوں رانیں، (۳) دونوں پنڈلیاں اور دونوں رانیں، (۴) دونوں رانیں اور شرمگاہ کے دو کنارے، وغیرہ۔ ان الفاظ کی جو مراد بھی لی جائے، یہ اتفاقی قید ہے، غسل اس وقت فرض ہو گا، جب دونوں ختنوں کے مقامات آپس میں مل جائیں اور دخول ہو جائے۔ اس کی مزید وضاحت اگلی حدیث سے ہو رہی ہے۔