حدیث نمبر: 839
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَهَا رُخْصَةً لِلْمُؤْمِنِينَ لِقِلَّةِ ثِيَابِهِمْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا بَعْدُ يَعْنِي قَوْلَهُمْ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑے کم ہونے کی وجہ سے مؤمنوں کو اس چیز کی رخصت دی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تھا۔ رخصت سے یہ حدیث مرا د تھی: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … غسل نہ کرنے کی رخصت کی وجہ کپڑوں کی قلت تھی، اس بات کی کوئی مناسبت سمجھ نہیں آ رہی کہ کپڑوں کی کمی کا غسل نہ کرنے سے کیا تعلق ہے، بہرحال یہ جملہ ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 839
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: لقلة ثيابھم ۔ أخرجه ابوداود: 214، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21422»