الفتح الربانی
أبواب الغسل من الجنابة وموجباته— غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب
بَابٌ فِي أَنَّ قُلْكَ كَانَ رُخْصَةً ثُمَّ نُسِخَ باب: یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
حدیث نمبر: 838
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْفَتْوَى الَّتِي كَانُوا يَقُولُونَ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةٌ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ بِهَا فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ أَمَرَنَا بِالْاِغْتِسَالِ بَعْدَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے کہ لوگ یہ جو فتوی دیتے تھے کہ غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے، یہ رخصت تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابتدائے اسلام میں اس کی رخصت دی تھی، پھر اس کے بعد ہم کو غسل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … غسل کا پانی، منی کے پانی سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب انزال ہو گا تو غسل کیا جائے گا اور جب تک انزال نہیں ہو گا، اس وقت تک غسل نہیں کیا جائے گا۔