حدیث نمبر: 836
وَعَنْهُ أَيْضًا فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ فَمَرَرْنَا فِي بَنِي سَالِمٍ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ بَنِي عِتْبَانَ فَصَرَخَ وَابْنُ عِتْبَانَ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ)) قَالَ ابْنُ عِتْبَانَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ عَلَيْهَا مَاذَا عَلَيْهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدریؓ سے ایک دوسری حدیث یوں بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سوموار کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قبا کی طرف نکلے، ہم بنو سالم (محلے) میں سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں بنوعتبان کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور ابن عتبان کو بلند آواز دی، جبکہ وہ اپنی بیوی کے پیٹ پر تھے، بہرحال وہ چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: ہم نے اس بندے کو جلدی میں ڈال دیا ہے۔ پھر سیدنا ابن عتبان ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ جو اپنی بیوی سے مجامعت تو کرتا ہے، لیکن اس کو انزال نہیں ہوتا، اس پر کس چیز کی ذمہ داری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غسل کا پانی، منی کے پانی کے خروج سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 836
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 343، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11454»