حدیث نمبر: 8346
عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنَافُسَ بَيْنَكُمْ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَيَتَّبِعُ مَا فِيهِ فَيَقُولُ رَجُلٌ لَوْ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَقُومَ بِهِ كَمَا يَقُومُ بِهِ وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ وَيَتَصَدَّقُ فَيَقُولُ رَجُلٌ لَوْ أَنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَتَصَدَّقَ بِهِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ النَّجْدَةَ تَكُونُ فِي الرَّجُلِ وَسَقَطَ بَاقِي الْحَدِيثِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنایزید بن اخنس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی خواہش اور رغبت نہیں ہے، مگر دو آدمیوں کے مابین، ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا ہے اور وہ دن رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے اور اس کے احکام کی پیروی کرتا ہے، دوسرا آدمی اس پر رشک کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی یہ نعمت عطا کی ہوتی تو میں بھی اس کا اسی طرح اہتمام کرتا، جیسے وہ کرتا ہے۔دوسرا وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو وہ اسے خرچ کرتا ہے اور صدقہ کرتا ہے، دوسرا آدمی کہتا ہے: اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی یہ نعمت دے دے تو میں بھی اس کی طرح صدقہ کروں گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! دلیری اور بہادری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ کسی آدمی میں ہو، … حدیث کا باقی حصہ ضائع ہو گیا۔

وضاحت:
فوائد: … باقی نیک اعمال میں رشک اور ریس کرنا بھی درست ہے، لیکن اس معاملے میں یہ دو نیکیاں بہت بڑی ہیں، صاحب ِ قرآن اور صاحب ِ مال لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الثالث من الكتاب فيما يختص بالقرآن الكريم / حدیث: 8346
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، دون ذكر النجدة، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، سليمان بن موسي لم يدرك كثير بن مرة ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 626، وفي الاوسط : 2205 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17091»