حدیث نمبر: 8344
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْ كَانَ يُقْرِئُنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقْتَرِئُونَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ فَلَا يَأْخُذُونَ فِي الْعَشْرِ الْأُخْرَى حَتَّى يَعْلَمُوا مَا فِي هَذِهِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ قَالُوا فَعَلِمْنَا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: جن صحابہ نے ہمیں قرآن مجید پڑھایا، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دس آیات پڑھ لیتے تھے تو اگلی دس آیات اس وقت تک نہ پڑھتے تھے، جب تک وہ ان آیات پر عمل نہیں کر لیتے تھے، انھوں نے کہا: ہم نے علم اور عمل دونوں چیزوں کی تعلیم ایک ساتھ حاصل کی۔

وضاحت:
فوائد: … قرآن مجید کی تعلیم پر اجرت لینا کیسا ہے؟ دیکھیں حدیث نمبر (۶۱۴۱)کا باب اور اس کی شرح۔
قارئین کرام! اس بحث کا مطالعہ کریں، قرآن کریم کی تعلیم سے متعلقہ افراد کا معاملہ بڑا حساس ہے، ان کو سنجیدگی سے غور کر کے اپنے ارادے کاجائزہ لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله / حدیث: 8344
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 460، والطحاوي في شرح مشكل الآثار : 1451 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23878»