حدیث نمبر: 8343
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشْغَلُ فَإِذَا قَدِمَ رَجُلٌ مُهَاجِرٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنَّا يُعَلِّمُهُ الْقُرْآنَ فَدَفَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَكَانَ مَعِي فِي الْبَيْتِ أُعَشِّيهِ عَشَاءَ أَهْلِ الْبَيْتِ فَكُنْتُ أُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَانْصَرَفَ انْصِرَافَةً إِلَى أَهْلِهِ فَرَأَى أَنَّ عَلَيْهِ حَقًّا فَأَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا لَمْ أَرَ أَجْوَدَ مِنْهَا عُودًا وَلَا أَحْسَنَ مِنْهَا عِطْفًا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيهَا قَالَ جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا أَوْ تَعَلَّقْتَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسلمانوں کی مصلحتوں میں) مصروف رہتے تھے، جب بھی کوئی ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ہم میں سے کسی آدمی کے ساتھ ملا دیتے تاکہ وہ اسے قرآن پاک کی تعلیم دے۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی میرے حوالے کیا،وہ میرے گھر میں ہی رہتا تھا، میں اسے وہی کھانا دیتا، جو میرے گھر والے کھاتے تھے، میں اسے قرآن پاک پڑھاتا تھا،جب وہ اپنے گھرچلا گیا اور اس نے خیال کیا کہ میرا اس پر حق ہے تو اس نے مجھے کمان بطورِ تحفہ دی، میں نے اس جیسی بہترین لکڑی اور اس جیسی بنی ہوئی کمان نہیں دیکھی تھی، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے کندھوں کے درمیان آگ کا انگارا ہے، جو تو نے لٹکا لیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کے ایک طریق کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَ ہْلِ الصُّفَّۃِ الْکِتَابَۃَ وَالْقُرْآنَ، فَأَ ہْدَی إِلَیَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَوْسًا لَیْسَتْ لِی بِمَالٍ وَأَ رْمِی عَنْہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی، فَسَأَ لْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((إِنْ سَرَّکَ أَ نْ تُطَوَّقَ بِہَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْہَا۔)) … میں نے اہل صفہ کے کچھ لوگوں کو کتابت اور قرآن مجید کی تعلیم دی،ان میں سے ایک آدمی نے مجھے ایک کمان تحفہ دی، میں نے کہا: یہ میرے لیے کوئی مال تو نہیں ہے، (یہ تو جہاد میں کام آنے والا ہتھیار ہے) میں اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر پھینکوں گا، (اس لیے لے لیتا ہوں)، لیکن جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ اس کی وجہ سے تجھے آگ سے طوق پہنا دیا جائے تو قبول کر لے۔ (مسند احمد: ۲۲۶۸۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله / حدیث: 8343
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 3416، 3417، وابن ماجه: 2157 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23146»