الفتح الربانی
كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله— قرآن کریم کے فضائل، تفسیر اور اسبابِ نزول کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي قِرَائَةِ الْقُرْآنِ بِأَجْرٍ أَوْ تَعْلِيمِهِ بِأَجْرِ باب: قرآن پاک کی تعلیم پر اجرت لینے کا بیان
حدیث نمبر: 8342
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيكُمْ كِتَابُ اللَّهِ يَتَعَلَّمُهُ الْأَسْوَدُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ تَعَلَّمُوهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يَتَعَلَّمُهُ نَاسٌ وَلَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَيُقَوِّمُونَهُ كَمَا يُقَوَّمُ السَّهْمُ فَيَتَعَجَّلُونَ أَجْرَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے، سیاہ، سفید اور سرخ رنگ والا، ہر کوئی اس کو سیکھتا ہے،اس کو اس وقت سے پہلے پہلے سیکھ لو، جب لوگ اسے سیکھیں گے، لیکن یہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا اور اس کے الفاظ اس طرح سیدھے کریں گے، جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ دنیا میں ہی اس کی اجرت طلب کریں گے، آخرت تک تاخیر نہیں کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ایسے لوگ تکلف کر کے قرآن مجید کے الفاظ میں حسن بھرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ لوگ ان کی طرف راغب ہوں، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشین گوئی کی، اب ایسے ہی واقع ہو چکا ہے۔