حدیث نمبر: 8328
عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُكُمْ وَفِي لَفْظٍ إِنَّ خَيْرَكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے افضل اور بہتر وہ شخص ہے، جو قرآن پاک سیکھتا ہے اور سکھاتاہے۔

وضاحت:
فوائد: … قرآنِ مجید وہ کلام ہے جسے جہانوں کے پالنہار نے ترتیب دیا، سیدالملائکہ جبریل علیہ السلام کے واسطے سے سید البشر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچایا۔ جیسے اللہ تعالی کی ہستی، ذات و صفات میںیکتا و یگانہ ہے، ایسے ہی اس کا کلام لاثانی، عدیم النظیر اور بے مثال ہے، یہ ربّ کریم کا وہ عظیم معجزہ ہے کہ گزشتہ سوا چودہ صدیوں میں کوئی بھی اس کی مثال پیش نہیں کی جا سکی، جن بد باطن لوگوں نے ناکام کوشش کی، انہوں نے اپنے منہ پر تھوکا اور ان کے اِس بدنامِ زمانہ کردار سے قرآن پاک کے مقام و مرتبہ میں اضاہ ہو گیا۔
اس اعتبار سے یہ منفرد کلام ہے کہ جس کی تلاوت کرنے سے دلوں کو راحت و سکون نصیب ہو تا ہے، یہ اللہ تعالی کا بہت فضیلت والا ذکر ہے، انسانیت کی رشد وہدایت کیلیے اللہ تعالی کی طرف سے بشریت کے نام آخری اور لازوال پیغام ہے، اس کی موافقت کرنے والادنیا و آخرت میںکامیاب وکامران ہوتا ہے اور اس کی مخالفت کرنے والا دونوں جہانوں میں رسوا و خوار ہوتا ہے۔
جہاں اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کی ضمانت دی، وہاں اس کو سرچشمۂ ہدایت و رشد بھی قرار دیا۔ اللہ تعالی نے ان دو عظیم بلکہ عظیم تر امور کو سرانجام دینے کے لیے قرآن مجید کے معلمین اور متعلمین کا انتخاب کیا۔ آج سے چودہ سو بیس (۱۴۲۰) برس پہلے قرآن مجید کے نزول کی تکمیل ہو چکی تھی، لیکن کیا مجال کہ قرآن کریم کی درس و تدریس کرنے والوں نے اس کتابِ عظیم کے زیر زبر میں فرق آنے دیا ہو۔
لیکن اس وقت کے لوگوں کی ترجیحات اور میلانات مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں اور عملی طور پر قرآن مجید کی تلاوت کرنے، بچوں کو پڑھانے اور اس کا ترجمہ و تفسیر سیکھنے کی رغبت ختم ہو چکی ہے، الا ما شاء اللہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله / حدیث: 8328
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5028، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 500»