حدیث نمبر: 8322
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا كَالْمُوَدِّعِ فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ قَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ وَجَوَامِعَهُ وَعَلِمْتُ كَمْ خَزَنَةُ النَّارِ وَحَمَلَةُ الْعَرْشِ وَتُجُوِّزَ بِي وَعُوفِيتُ وَعُوفِيَتْ أُمَّتِي فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا مَا دُمْتُ فِيكُمْ فَإِذَا ذُهِبَ بِي فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ أَحِلُّوا حَلَالَهُ وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں الوداع کہہ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد نبی اُمّی ہوں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، مجھے کلمات کی ابتدائی، انتہائی اور جامع صورتیں عطا کی گئی ہیں، مجھے یہ بھی علم ہے کہ دوزخ کے نگران کتنے فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھانے والے کتنے فرشتے ہیں، میری امت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت ساری تکالیف سے درگزر کیا گیاہے اور مجھے اور میری امت کو عافیت دی گئی ہے،جب تک میں تم میں موجود ہوں، میری بات سنو اور اطاعت کرو اور جب میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں توکتاب اللہ پرعمل لازم پکڑنا، اس کی حلال کردہ اشیا کو حلال سمجھنا اور اس کے حرام کردہ امور کو حرام سمجھنا۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوامع الکلم عطا کیے گئے تھے، سمندر کو کوزے میں بند کر دینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کا وصف تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو فصاحت و بلاغت کی شاہکار ہوتی تھی۔ جَوَامِعُ الکَلِم: ان سے مرادیہ ہے کہ بظاہر تو کلام مختصر اور کم حروف والے الفاظ پر مشتمل ہو، لیکن وہ اپنے اندر کئی معانی اور احکام کو سموئے ہوئے ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله / حدیث: 8322
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، وعبد الرحمن بن مريح مجھول، ھكذا قال ابن حجر في اللسان ، لكنه قال في التعجيل : ھو رجل مشهور، له ادراك ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6606»