حدیث نمبر: 8317
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ قَالَ فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ قَالَ تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ وَرُبَّمَا قَالَ قَضَيْتَ حُكْمَ الْمَلِكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ کے یہودی سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر متفق ہو گئے،(یعنی وہ جو فیصلہ کریں گے، ان کو منظور ہو گا)، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، پس وہ گدھے پر سوار ہو کر آ گئے اور جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جائو (اور ان کو گدھے سے اتارو)۔ پھر آپ نے فرمایا: اے سعد! یہ بنو قریظہ کے یہودی تمہارے فیصلہ پر راضی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں (اور بیویوں) کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سعد تم نے تو وہ فیصلہ کیا ہے، جو اللہ بادشاہ کا فیصلہ ہے۔

وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا طَلَعَ يَعْنِي سَعْدًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزِلُوهُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَيِّدُنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَنْزِلُوهُ فَأَنْزَلُوهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْكُمْ فِيهِمْ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جائو اور انہیں نیچے اتارو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارا سید اور سردار تو اللہ تعالیٰ ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اتارو۔ پس انھوں نے ان کو اتارا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔ … ۔

وضاحت:
فوائد: … ذہن نشین کر لیں کہ صحابہ کرام کا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لیے کھڑا ہونا محض ان کی تعظیم کے لیے نہیں تھا، بلکہ ان کو گدھے سے اتارنے کے لیے کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا تھا، کیونکہ وہ غزوۂ خندق کے موقع پر زخمی ہو گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8317
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4121، ومسلم: 1768، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11185»