حدیث نمبر: 8310
عَنْ حُمَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ غَدًا أَقْوَامٌ هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا لِلْإِسْلَامِ مِنْكُمْ قَالَ فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ جَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ يَقُولُونَ غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ فَلَمَّا أَنْ قَدِمُوا تَصَافَحُوا فَكَانُوا هُمْ أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ الْمُصَافَحَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کل تمہارے پاس وہ لوگ آنے والے ہیں، جن کے دل اسلام کے لئے تم سے بھی زیادہ رقت آمیز ہیں۔ پس اشعری قبیلہ کے لوگ آئے، ان میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب ہوئے تو وہ یہ رجز پڑھنے لگے: غَدًا نَلْقَی الْأَحِبَّہْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَہْ … (کل ہم اپنے پیاروں کو ملیں گے، یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گروہ)، پس جب وہ آئے تو انہوں نے مصافحہ کیا، یہ سب سے پہلے لوگ تھے، جنہوں نے مصافحہ کا طریقہ ایجاد کیا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا وفد مدینہ منورہ میں فتح خیبر کے بعد آیا تھا یہ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں بغیر غزوہ میں شرکت کئے حصہ غنیمت ملا تھا۔ان کے دل خشیت الٰہی سے لبریز اور قبول حق میں تیز تھے وعظ و نصیحت سے جلد متاثر ہوئے تھے اور قسوت و سختی سے صحیح و سلامت تھے۔ اس لئے انہیں بہت زیادہ رقت والے قرار دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8310
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن حبان: 7193 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12582 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12610»