حدیث نمبر: 8309
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَلَغَنِي حَدِيثٌ عَنْ رَجُلٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَرَيْتُ بَعِيرًا ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَيْهِ رَحْلِي فَسِرْتُ إِلَيْهِ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ الشَّامَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ قُلْ لَهُ جَابِرٌ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ قُلْتُ نَعَمْ فَخَرَجَ يَطَأُ ثَوْبَهُ فَاعْتَنَقَنِي وَاعْتَنَقْتُهُ قُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک حدیث اس آدمی سے پہنچی، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی،پس میں نے سواری خریدی، پھر میں نے اس پر کجا وہ باندھ کر ایک ماہ کا سفر کیا، یہاں تک کہ میں اس کے پاس شام پہنچ گیا، وہ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے دربان سے کہا: عبداللہ سے کہو کہ جابر ملاقات کے لئے دروازے پر حاضر ہے، انھوں نے پوچھا: عبداللہ کا بیٹا جابر،میں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنا کپڑا روندتے ہوئے باہر آئے اور وہ مجھ سے بغلگیر ہو گئے اور میں ان سے بغلگیر ہو گیا، پھر میں نے کہا: جی مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی ہے (وہ براہِ راست سننے کے لیے آیا ہوں)، پھر ایک طویل حدیث ذکر کی۔

وضاحت:
فوائد: … یہ ایک طویل حدیث ہے، جس میں قیامت کے دن قصاص اور بدلا دلانے کا ذکر ہے، یہاں اس کو ذکر کرنے کا مقصود یہ ہے کہ صحابہ نے آپس میں معانقہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8309
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 2/ 437، والبخاري في الادب المفرد : 970 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16138»