حدیث نمبر: 8308
عَنْ أَبِي دَاوُدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَلَّمَ عَلَيَّ وَأَخَذَ بِيَدِي وَضَحِكَ فِي وَجْهِي قَالَ تَدْرِي لِمَ فَعَلْتُ هَذَا بِكَ قَالَ قُلْتُ لَا أَدْرِي وَلَكِنْ لَا أَرَاكَ فَعَلْتَهُ إِلَّا لِخَيْرٍ قَالَ إِنَّهُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ بِي مِثْلَ الَّذِي فَعَلْتُ بِكَ فَسَأَلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ لِي فَقَالَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيُسَلِّمُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَيَأْخُذُ بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَفَرَّقَانِ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو داؤد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے مجھے سلام کہا، میرا ہاتھ پکڑا،مسکرائے اور کہا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہارے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: معلوم تو نہیں ہے! لیکن میرا یقین ہے تم نے جو کچھ بھی کیا ہے، اس میں خیر ہی ہو گی، پھر انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ملے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا، جس طرح میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ سے اسی طرح پوچھا تھا، جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی پر سلام کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے، لیکن یہ عمل صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، تو وہ ابھی تک جدا نہیں ہوتے، کہ اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8308
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، ابوداود نفيع بن الحارث الاعمي متروك، أخرجه الطبراني في الاوسط : 7626 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18747»