الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ وَالْالْتِرَامِ باب: مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان¤مصافحہ اور معانقہ کا بیان
حدیث نمبر: 8307
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَحْضُرَ دُعَاءَهُمَا وَلَا يُفَرِّقَ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو مسلمان جب آپس میں ملتے ہیں اور ایک ان میں سے دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ ان کی دعا میں شریک ہو (یعنی قبول کرے) اور ان کے ہاتھوں کو اس وقت تک جدا نہ کرے،، جب تک ان کو بخش نہ دے۔