حدیث نمبر: 8306
عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ بُشَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ فُلَانٍ الْعَنَزِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَمْ يَقُلِ الْغُبَرِيَّ وَفِي لَفْظٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا رَجَعَ تَقَطَّعَ النَّاسُ عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ بَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ كَانَ سِرًّا مِنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُحَدِّثْكَ قُلْتُ لَيْسَ بِسِرٍّ وَلَكِنْ كَانَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ يَأْخُذُ بِيَدِهِ يُصَافِحُهُ قَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ لَمْ يَلْقَنِي قَطُّ إِلَّا أَخَذَ بِيَدِي وَفِي رِوَايَةٍ مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي غَيْرَ مَرَّةٍ وَاحِدَةٍ وَكَانَتْ تِلْكَ آخِرَهُنَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ لَهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَوَجَدْتُهُ مُضْطَجِعًا فَأَكْبَبْتُ عَلَيْهِ فَرَفَعَ يَدَهُ فَالْتَزَمَنِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَكَانَتْ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بنو عنز قبیلے کا ایک آدمی بیان کرتا ہے، میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، جب وہ واپس ہوئے تو لوگ ان سے علیحدہ ہوئے اور میں نے کہا: اے ابوذر! میں آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امور کے بارے میں سوال کرتا ہوں۔انہوں نے کہا: لیکن اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز ہوا تو میں تمہیں نہیں بتاؤں گا، میں نے کہا: رازدارانہ معاملہ نہیں ہے،بات یہ ہے جب ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملتا ہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے، کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: تو نے واقعی باخبر آدمی سے سوال کیا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی مجھے ملے ہیں، ہمیشہ میرا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کیا ہے، البتہ ایک بار مصافحہ نہیں کیا تھا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری لمحات میں ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی چارپائی پر تھے، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت میں مبتلا تھے، میں نے آپ کو لیٹا ہوا پایا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور مجھے ساتھ لگا لیا، یہ انداز تو مصافحہ سے کس قدر بہتر اور عمدہ تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8306
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة العنزي، وايوبُ بن بشيرالعدوي، روي عنه غير واحد، وذكره ابن حبان في ثقاته لكن جھّله ابن خراش ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21774»