الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ وَالْالْتِرَامِ باب: مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان¤مصافحہ اور معانقہ کا بیان
حدیث نمبر: 8305
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدُنَا يَلْقَى صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ قَالَ لَا قَالَ فَيُصَافِحُهُ قَالَ نَعَمْ إِنْ شَاءَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب کوئی آدمی اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا اسے اس کے لیے جھکنا چاہئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے پھر پوچھا: کیا اس سے معانقہ کرے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا اس سے مصافحہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر چاہے تو۔