حدیث نمبر: 8303
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ حَائِطًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَأْكُلْ وَإِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِإِبِلٍ فَأَرَادَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ أَوْ يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَشْرَبْ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی کے باغ میں جائے اور وہ وہاں سے سے کھانا چاہے تو یوں آواز دے: اے باغ کے مالک! تین مرتبہ آواز دے، اگر وہ جواب دے تو ٹھیک ہے، وگرنہ وہ باغ سے کھا لے اور جب تم میں سے کوئی اونٹوں کے قریب سے گزرے اور ان اونٹنیوں کا دودھ پینا چاہے تو آواز دے: اے اونٹوں کے مالک! یا اے اونٹوں کے چرواہے! اگر وہ جواب دے تو درست ہے، وگرنہ وہ دودھ (دوہ کر) پی لے، مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے،اس سے زیادہ مہمان پر صدقہ ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں محتاج کے لیے اجازت لینے کا یہ مخصوص طریقہ ہے اور ایسی صورت میں محتاج کو کوئی چیز اپنے ساتھ اٹھا کر لے جانے کی اجازت نہیں ہے، کسی انسان کے کھلیان، گھر یا دوکان وغیرہ میں پڑے ہوئے مال اور غلے کے بارے میں اجازت لینے کا یہ طریقہ درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8303
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابويعلي: 1244، وابن حبان: 5281، والبيھقي: 9/ 359، وأخرجه مختصرا ابن ماجه: 2300، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11060»