الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
باب الاستقدان ثلاث مِرَارٍ فَإِنْ لَمْ يُؤْذَنَ لَهُ فَلْيَرْجِعْ باب: اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ حَائِطًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَأْكُلْ وَإِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِإِبِلٍ فَأَرَادَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا فَلْيُنَادِ يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ أَوْ يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَشْرَبْ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی کے باغ میں جائے اور وہ وہاں سے سے کھانا چاہے تو یوں آواز دے: اے باغ کے مالک! تین مرتبہ آواز دے، اگر وہ جواب دے تو ٹھیک ہے، وگرنہ وہ باغ سے کھا لے اور جب تم میں سے کوئی اونٹوں کے قریب سے گزرے اور ان اونٹنیوں کا دودھ پینا چاہے تو آواز دے: اے اونٹوں کے مالک! یا اے اونٹوں کے چرواہے! اگر وہ جواب دے تو درست ہے، وگرنہ وہ دودھ (دوہ کر) پی لے، مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے،اس سے زیادہ مہمان پر صدقہ ہو گا۔