حدیث نمبر: 8302
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَقَالَ سَعْدٌ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا هِيَ بِأُذُنِي وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنَ الْبَرَكَةِ ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْبَيْتَ فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ ، انھوں نے جوابا وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ تو کہا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں سنایا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کہا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بھی تین بار ہی جواب دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں سنایا،بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹ آئے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پیچھے ہو لئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جب بھی آپ نے سلام کہا، میں نے جواب دیا، مگر آپ کو سنایا نہیں تھا، دراصل میں زیادہ سے زیادہ آپ کا سلام اور برکت حاصل کرنا چاہتا تھا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھر میں لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے منقّی پیش کیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: أَکَلَ طَعَامَکُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَأَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُونَ (نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، فرشتے تمہارے حق میں رحمت کی دعا کریں اور روزے دار تمہارے ہاں افطاری کریں)۔

وضاحت:
فوائد: … اِس اور دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اجازت لینے والا یوں کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ آجکل لوگ اجازت طلب کرنے کے لیے صرف (M صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم y, I رضی اللہ عنہا om in sir?) کہتے ہیں، اجازت لینے کا یہ طریقہ تعلیمی اداروں میں عام ہے، ایسے معلوم ہوتا ہے، جیسے طلبہ کو سلام کا شعور ہی نہیں ہے، ایسوں کو پہلے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہنا چاہئے، تاکہ نبی ٔ مہربان کی سنت ِ مبارکہ پر عمل ہو سکے اور رحمت و سلامتی کی دعا کا تبادلہ بھی ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8302
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 3854، والترمذي: 2696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12406 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12433»