حدیث نمبر: 8301
عَنْ عَطَاءٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَقَالَ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ آنِفًا قَالُوا بَلَى قَالَ فَاطْلُبُوهُ قَالَ فَطَلَبُوهُ فَدُعِيَ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا فَقَالَ لَتَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ بِالْبَيِّنَةِ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ قَالَ فَأَتَى مَسْجِدًا أَوْ مَجْلِسًا لِلْأَنْصَارِ فَقَالُوا لَا يَشْهَدُ لَكَ إِلَّا أَصْغَرُنَا فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَشَهِدَ لَهُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَفِيَ هَذَا عَلَيَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبید بن عمبیر بیان کرتے ہیں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے گھر جا کر تین مرتبہ اندر جانے کی اجازت طلب کی، لیکن جب اجازت نہ ملی تو وہ واپس ہو لئے، سیدنا عمر نے کہا: کیا میں ابھی ابو موسی عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سن رہا تھا، گھر والوں نے کہا: کیوں نہیں، یہ وہی تھے، انھوں نے کہا: اسے بلاؤ، پس بلایا گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا:جو کچھ تم نے کیا ہے، کس چیز نے تمہیں اس پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ سے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت طلب کی ہے، مجھے اجازت نہ دی گئی تو میں واپس جا رہا تھا، ہمیں یہی حکم ملا ہے، سیدنا عمر نے کہا: اس پر دلیل لاؤ وگرنہ میں تم کو سزا دوں گا، سیدنا ابو موسیٰ مسجد میں آئے یا انصار کی مجلس میں گئے اور گواہ کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا: ہمارا سب سے چھوٹا بندہ ہی تیرے حق میں گواہی دے گا، پس سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اٹھے اور ان کے حق میں گواہی دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ سنت مجھ سے مخفی رہ گئی ہے، بازاروں کی تجارت نے ہمیں غافل کر دیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8301
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7353، ومسلم: 2153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19810»