حدیث نمبر: 8299
عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرْسَلَنِي مُدْرِكٌ أَوِ ابْنُ مُدْرِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ قَالَ فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ تُصَلِّي الضُّحَى فَقُلْتُ أَقْعُدُ حَتَّى تَفْرُغَ فَقَالُوا هَيْهَاتَ فَقُلْتُ لِآذِنِهَا كَيْفَ أَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا فَقَالَ قُلْ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ السَّلَامُ عَلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا الْحَدِيثُ سَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي فَتَاوَى عَائِشَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن موسیٰ کہتے ہیں: مجھے مدرک نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، تاکہ میں کچھ اشیاء کے بارے میں ان سے پوچھوں، جب میں ان کے پاس آیا تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں، میں بیٹھ گیا تا کہ وہ نماز سے فارغ ہو جائیں، انہوں نے کہا: بہت دیر کر دی ہے،پس میں نے اجازت دینے والے سے کہا: میں ان سے کس طرح اجازت طلب کروں، اس نے کہا: تم اس طرح کہو:اے نبی آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور برکت ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر،سلامتی ہو امہات المؤمنین یا ازواجِ رسول پر، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، پھر میں سیدہ کے پاس چلا گیا۔ مکمل حدیث فتاوی عائشہ میں آ رہی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی کے گھر جائیں تو سلام بھی کہا جائے اور اجازت طلب کی جائے اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے السلام علیکم کہا جائے اور پھر نام بتایا جائے اور کہا جائے اندر آنے کی اجازت ہے اگر اجازت مل جائے تو داخل ہو جائیں اگر اجازت نہ ملے تو واپس آ جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8299
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25458»