الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَيْفِيَّةِ الإِسْتِعْدَانِ وَلَفْظِهِ وَالسَّلَامِ قبله باب: اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرْسَلَنِي مُدْرِكٌ أَوِ ابْنُ مُدْرِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ قَالَ فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ تُصَلِّي الضُّحَى فَقُلْتُ أَقْعُدُ حَتَّى تَفْرُغَ فَقَالُوا هَيْهَاتَ فَقُلْتُ لِآذِنِهَا كَيْفَ أَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا فَقَالَ قُلْ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ السَّلَامُ عَلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا الْحَدِيثُ سَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي فَتَاوَى عَائِشَةَ۔ سیدنا عبداللہ بن موسیٰ کہتے ہیں: مجھے مدرک نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، تاکہ میں کچھ اشیاء کے بارے میں ان سے پوچھوں، جب میں ان کے پاس آیا تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں، میں بیٹھ گیا تا کہ وہ نماز سے فارغ ہو جائیں، انہوں نے کہا: بہت دیر کر دی ہے،پس میں نے اجازت دینے والے سے کہا: میں ان سے کس طرح اجازت طلب کروں، اس نے کہا: تم اس طرح کہو:اے نبی آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور برکت ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر،سلامتی ہو امہات المؤمنین یا ازواجِ رسول پر، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، پھر میں سیدہ کے پاس چلا گیا۔ مکمل حدیث فتاوی عائشہ میں آ رہی ہے۔