الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَيْفِيَّةِ الإِسْتِعْدَانِ وَلَفْظِهِ وَالسَّلَامِ قبله باب: اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ أَأَدْخُلُ فَعَرَفَ صَوْتِي فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ إِذَا أَتَيْتَ إِلَى قَوْمٍ فَقُلْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَإِنْ رَدُّوا عَلَيْكَ فَقُلْ أَأَدْخُلُ قَالَ ثُمَّ رَأَى ابْنَهُ وَاقِدًا يَجُرُّ إِزَارَهُ فَقَالَ ارْفَعْ إِزَارَكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ۔ زید بن اسلم کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا، میں نے ان سے کہا: کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ انہوں نے میری آواز پہچان لی اور کہا: اے بیٹے! جب کسی قوم کے پاس آؤ تو پہلے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہو، اگر وہ جواب دیں تو پوچھو کہ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں، پھر انھوں نے اپنے بیٹے واقد کو دیکھا کہ وہ تہبند گھسیٹ رہا تھا، پس انھوں نے کہا: اپنا تہبند اوپر اٹھا لے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی تکبر سے اپنا لباس گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔