حدیث نمبر: 8295
عَنْ أَبِي صَالِحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَذِنَتْ لَهُ قَالَ ثَمَّ عَلِيٌّ قَالُوا لَا قَالَ فَرَجَعَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ ثَمَّ عَلِيٌّ قَالُوا نَعَمْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ حِينَ لَمْ تَجِدْنِي هَاهُنَا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت تو دے دی، لیکن سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اِدھر علی رضی اللہ عنہ بھی ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی وہ نہیں ہیں،پس سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے، اور پھر دوبارہ اجازت طلب کی اور پوچھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں؟ کسی نے کہا: جی ہیں، پھر وہ آئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: جب میں نہیں تھا تو آپ کیوں رک گئے تھے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان عورتوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے، جن کے خاوند گھر پر نہ ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ کسی کے پاس جانے کے لیے یا کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8295
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه ابويعلي: 7348، وابن حبان: 5584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17977»