الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنْ دُخُولِ مَنْزِلِ إِلَّا بِإِذْنِ صَاحِبِهِ ، وَعَنِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ باب: کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر¤ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
عَنْ مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى امْرَأَتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَذِنَ لَهُ فَتَكَلَّمَا فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا خَرَجَ الْمَوْلَى سَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ عَمْرٌو نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَأْذِنَ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا تاکہ یہ ان کی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی عمرو کے لئے اجازت طلب کرے، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے ضرورت کے مطابق بات کی، جب وہ باہر نکلے تو غلام نے اس کی وجہ پوچھی کہ عمرو بغیر اجازت کے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس داخل کیوں نہیں ہوئے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کی بیوی سے بات کرنے کے لیے اس سے اجازت لینے سے منع فرمایا، الا یہ کہ پہلے ان کے خاوندوں سے اجازت لی جائے۔