حدیث نمبر: 8294
عَنْ مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى امْرَأَتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَذِنَ لَهُ فَتَكَلَّمَا فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا خَرَجَ الْمَوْلَى سَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ عَمْرٌو نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَأْذِنَ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا تاکہ یہ ان کی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی عمرو کے لئے اجازت طلب کرے، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے ضرورت کے مطابق بات کی، جب وہ باہر نکلے تو غلام نے اس کی وجہ پوچھی کہ عمرو بغیر اجازت کے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس داخل کیوں نہیں ہوئے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کی بیوی سے بات کرنے کے لیے اس سے اجازت لینے سے منع فرمایا، الا یہ کہ پہلے ان کے خاوندوں سے اجازت لی جائے۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی شادی شدہ خاتون کی اجازت دے دینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے پاس جانے سے پہلے اس کے خاوند سے اجازت طلب کی جائے اور پھر اس سے اجازت مانگی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8294
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه الترمذي: 2779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17919»