الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنْ دُخُولِ مَنْزِلِ إِلَّا بِإِذْنِ صَاحِبِهِ ، وَعَنِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ باب: کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر¤ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8292
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ فَلَا تَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا بِإِذْنٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت پر مامور تھا، سو میں آپ کے پاس اجازت کے بغیر آ جاتا تھا، میں ایک دن (روٹین کے مطابق) داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیارے بیٹے! ایک نیا حکم نافذ ہو گیا ہے، پس تو اجازت کے بغیرمیرے پاس نہ آنا۔