الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنْ كَشْفِ السَّيْرِ أَوِ النَّظْرِ مِنْ قَبْلِ الاذن وَ وَعِيدِ فَاعِلِهِ باب: پردہ اٹھانے، اجازت سے پہلے دیکھنے اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8290
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سِتْرِ حُجْرَتِهِ وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى فَقَالَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ هَذَا يَنْظُرُنِي حَتَّى آتِيَهُ لَطَعَنْتُ بِالْمِدْرَى فِي عَيْنِهِ وَهَلْ جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ إِلَّا مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ پر لٹکے ہوئے پردے سے دیکھا، آپ کے ہاتھ میں کنگھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں جانتا ہوتا کہ یہ مجھے دیکھ رہا ہے تو میں اس کے قریب آ کر اس کی آنکھ میں یہ کنگھی مار دیتا، نظر کی وجہ سے ہی اجازت لینے کو مشروع قرار دیا گیاہے۔