الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
باب آدَابِ الْإِسْتِبْدَانَ باب: اجازت لینے اور اس کی کیفیت اور آداب کے ابواب¤اجازت طلب کرنے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 8288
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ ذَا فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَنَا قَالَ مُحَمَّدٌ كَأَنَّهُ كَرِهَ قَوْلَهُ أَنَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں ہوں، میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں، میں … یہ کیا ہوتا ہے۔ محمد راوی کہتے ہیں: گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ میں کو ناپسند کیا۔
وضاحت:
فوائد: … غور کریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سنہری عادات و اطوار پر، کتنی سنجیدگی اور وقار ہے، چودہ صدیوں سے زیادہ عرصہ قبل ان عادات کو متعارف کروایا جا رہا تھا۔