الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
باب آدَابِ الْإِسْتِبْدَانَ باب: اجازت لینے اور اس کی کیفیت اور آداب کے ابواب¤اجازت طلب کرنے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 8287
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ الْبَابَ يَسْتَأْذِنُ لَمْ يَسْتَقْبِلْهُ يَقُولُ يَمْشِي مَعَ الْحَائِطِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهُ أَوْ يَنْصَرِفَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اجازت طلب کرنے کے لیے کسی کے گھر کے دروازے پر آتے تو سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیوار کے ساتھ چلتے، یہاں تک کہ اجازت طلب کر لیتے یا پھر واپس چلے جاتے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اجازت لینے والے یا دستک دینے والے کو دروازے کے سامنے کھڑا نہیں ہونا چاہیے، تاکہ کوئی بے پردگی نہ ہو اور کوئی راز فاش نہ ہو اور کوئی شرمندگی نہ ہو۔