حدیث نمبر: 8285
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِمْ إِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ یہودی لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہنے کے بہانے کہا: اے ابو القاسم ! اَلسَّامُ عَلَیْکَ،آپ نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکُمْ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، جبکہ وہ غصے میں تھیں: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے سنا ہے کہ انھوں نے کیا کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، میں نے سنا ہے اور میں نے ان کا جواب بھی دے دیا ہے، بات یہ ہے کہ ان کے خلاف ہماری بددعائیں تو قبول ہو جاتی ہیں، لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعائیں قبول نہیں ہوتیں۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جب اہل کتاب اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہیں یا اس لفظ کو تبدیل کر کے کوئی بددعا کر یں تو ان کے جواب میں وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی ہو) کہہ دیا جائے۔ جمہور کا یہی مسلک ہے، حافظ ابن حجرؒ نے اسی کی تائید کرتے ہوئے درج ذیل روایت نقل کی:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8285
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم:2166 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15172»