حدیث نمبر: 8283
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ عَلَيْكُمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَلَعْنَةُ اللَّاعِنِينَ قَالُوا مَا كَانَ أَبُوكِ فَحَّاشًا فَلَمَّا خَرَجُوا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ قَالَتْ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا قَالَ فَمَا رَأَيْتِنِي قُلْتُ عَلَيْكُمْ إِنَّهُمْ يُصِيبُهُمْ مَا أَقُولُ لَهُمْ وَلَا يُصِيبُنِي مَا قَالُوا لِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عَلَیْکُمْ (تم پر بھی ہو)۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم پر ہو اللہ کی لعنت، بلکہ سب لعنت کرنے والوں کی لعنت تم پر ہو۔ انہوں نے کہا: اے عائشہ! تمہارے باپ تو اتنے سخت گو نہ تھے، جب وہ چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: جو تو نے سخت الفاظ کہے ہیں، تجھے کس چیز نے ان پر آمادہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے سنا نہیں کہ ان یہودیوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے دیکھا نہیں کہ میں نے بھی جوابا عَلَیْکُمْ کہا تھا، میں ان پر جو بد دعا کروں گا، وہ ان تک پہنچے گی، لیکن مجھ پر جو وہ بد دعا کریں گے، وہ مجھ تک نہیں پہنچے گی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8283
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين الا ابن ابا بكر بن محمد بن عمرو لم يذكروا له سماعا من عائشة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25363»