الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ مَا يُقَالُ فِي رَدُ السَّلام عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ باب: اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا السَّامُ عَلَيْكُمْ يَا إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ وَلَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَهْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا قَالَ أَوَمَا سَمِعْتِ مَا رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ يَا عَائِشَةُ لَمْ يَدْخُلِ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی جواباً یہی الفاظ دوہراتے ہوئے فرمایا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ ۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! تم پر موت اور ہلاکت واقع ہو، اور تم پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور غضب برسے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! رک جاؤ۔ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ انہوں نے کہا ہے، کیا وہ آپ نے سنا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میں نے ان کو جو جواب دیا ہے، کیا تم نے وہ نہیں سنا، نرمی جس چیز میں بھی پیدا ہو، وہ اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی کو نکال دیا جائے، تو یہ (نرمی کا نہ ہونا) اسے عیب دار بنا دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔