حدیث نمبر: 8282
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا السَّامُ عَلَيْكُمْ يَا إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ وَلَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَهْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا قَالَ أَوَمَا سَمِعْتِ مَا رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ يَا عَائِشَةُ لَمْ يَدْخُلِ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی جواباً یہی الفاظ دوہراتے ہوئے فرمایا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ ۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! تم پر موت اور ہلاکت واقع ہو، اور تم پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور غضب برسے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! رک جاؤ۔ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ انہوں نے کہا ہے، کیا وہ آپ نے سنا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میں نے ان کو جو جواب دیا ہے، کیا تم نے وہ نہیں سنا، نرمی جس چیز میں بھی پیدا ہو، وہ اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی کو نکال دیا جائے، تو یہ (نرمی کا نہ ہونا) اسے عیب دار بنا دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔

وضاحت:
ٖفوائد: … قارئین کرام! غور کریں کہ جب یہودی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سلامتی کی دعا کی بجائے ہلاکت اور موت کی بد دعاکر رہے تھے، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فحش گوئی اور بد گوئی کو پسند نہیں کیا، اس سے ہمیں اپنے بولوں کا اندازہ کر لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8282
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13565»