الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ مَا يُقَالُ فِي رَدُ السَّلام عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ باب: اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے
حدیث نمبر: 8281
عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ لَا إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل کتاب میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں سلام کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بس جب یہ لوگ تم کو سلام کہیں تو تم یہ کہہ کر ان کا جواب دیا کرو: وَعَلَیْکُمْ۔