الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ مَا يُقَالُ فِي رَدُ السَّلام عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ باب: اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے
حدیث نمبر: 8278
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكَ الْيَهُودِيُّ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْكَ فَقُلْ وَعَلَيْكَ وَقَالَ مَرَّةً إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ السَّامُ عَلَيْكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب یہودی لوگ تم پر سلام کرتے ہیں تو وہ (اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بجائے) اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کہتے ہیں، اس لیے تم بھی جواب میں وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی ہو) کہہ دیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کا معنی یہ ہے: تم پر ہلاکت اور موت واقع ہو۔