الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنْ ابْتَدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلامِ باب: اہل کتاب کو سلام کہنے میں پہل کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8276
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى يَهُودٍ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سوار ہو کرکل یہودیوں کے پاس جانے والا ہوں، تم نے انہیں سلام کہنے میں پہل نہیں کرنی اور جب وہ تمہیں سلام کہیں تو صرف یہ کہنا ہے کہ وَعَلَیْکُمْ۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں، مزید وضاحت اگلے باب سے ہو گی۔