الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنْ ابْتَدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلامِ باب: اہل کتاب کو سلام کہنے میں پہل کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8275
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودو نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم ان کو راستے میں ملو تو ان کو سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔
وضاحت:
فوائد: … سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کرنا، اس سے غیر مسلم کی اہانت مقصود نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ مسلمان راستے کے درمیان میں چلیں تاکہ اسلام اور مسلمان کی فضیلت واضح ہو جائے، جب اسلام کو عملی طور پر زمین کا پسندیدہ مذہب مانا جاتا تھا، اس وقت ان احادیث پر عمل کرنے میں خوبصورتی لگتی تھی، کیونکہ ان اعمال سے اسلام کی شان و عظمت ثابت ہوتی ہے اور اِس وقت چونکہ مسلمان اپنے آپ کو شان والا ثابت نہیں کر رہے، اس لیے اسلام کو اس مرتبے والا نہیں سمجھا جا رہا۔