حدیث نمبر: 8267
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ حَقٌّ عَلَى مَنْ قَامَ عَلَى مَجْلِسٍ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ وَحَقٌّ عَلَى مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسٍ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَامَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَكَلَّمُ فَلَمْ يُسَلِّمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مجلس میں آئے، اس پر حق ہے کہ وہ سلام کہے اور جو مجلس سے کھڑا ہو تو اس پر بھی حق ہے کہ وہ جاتے وقت سلام کہے۔ اتنے میں ایک آدمی جانے کے لئے کھڑا ہوا، چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک گفتگو میں مصروف تھے، اس لیے وہ سلام کہے بغیر چلا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اس نے بات کو بہت جلدی بھلا دیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … پہلا سلام تو وہ ہے جو مجلس میں پہنچتے وقت کیا جائے اور دوسرا وہ ہے جو مجلس سے اٹھتے وقت کیا جائے، دونوں سلام ضروری ہیں، ایک کی اہمیت دوسرے سے زیادہ یا ایک دوسرے سے فائق نہیں ہے، بلکہ دونوں ہی ضروری ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8267
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، أخرجه الطبراني في الكبير : 20/ 408 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15700»