الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ مَا يَفْعَلُ الْمُصَلَّى وَالْمُخْتَلِي إِذَا سَلَّمَ أَحَدٌ عَلَيْهما باب: اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
عَنِ ابْنِ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا خَلْفَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى رَحْلِهِ وَدَخَلْتُ أَنَا الْمَسْجِدَ فَجَلَسْتُ كَئِيبًا حَزِينًا فَخَرَجَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَطَهَّرَ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَابِرٍ بِخَيْرِ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اقْرَأْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى تَخْتِمَهَا۔ سیدنا ابن جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چل دیئے، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میں مسجد میں داخل ہو ا اور غمگین ہو کر بیٹھ رہا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طہارت حاصل کر لی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تینوں سلاموں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ، َعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ اور عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ ! میں تمہیں قرآن پاک کی بہترین سورت بتاؤں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ضرور بتائیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ پڑھو، یہاں تک کہ اس کو ختم کر دو۔