حدیث نمبر: 8265
عَنِ ابْنِ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا خَلْفَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى رَحْلِهِ وَدَخَلْتُ أَنَا الْمَسْجِدَ فَجَلَسْتُ كَئِيبًا حَزِينًا فَخَرَجَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَطَهَّرَ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَابِرٍ بِخَيْرِ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اقْرَأْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى تَخْتِمَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چل دیئے، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میں مسجد میں داخل ہو ا اور غمگین ہو کر بیٹھ رہا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طہارت حاصل کر لی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تینوں سلاموں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ، َعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ اور عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ ! میں تمہیں قرآن پاک کی بہترین سورت بتاؤں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ضرور بتائیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ پڑھو، یہاں تک کہ اس کو ختم کر دو۔

وضاحت:
فوائد: … سلام کا جواب دینے کے لیے وضو ضروری نہیں تھا، البتہ مستحب ضرور ہے کہ اللہ تعالی کا ذکر کرنے کے لیے وضو کا اہتمام کیا جائے، سلام بھی اللہ تعالی کے ذکر کی ایک صورت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8265
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن في المتابعات والشواھد،ثم ذكر الاحاديث التي تدل علي كراھة رد السلام علي غير طھارة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17740»