الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ مَا يَفْعَلُ الْمُصَلَّى وَالْمُخْتَلِي إِذَا سَلَّمَ أَحَدٌ عَلَيْهما باب: اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ مَسْجِدَ قُبَاءٍ يُصَلِّي فِيهِ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ رِجَالُ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَدَخَلَ مَعَهُ صُهَيْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ قَالَ يُشِيرُ بِيَدِهِ قَالَ سُفْيَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ لِرَجُلٍ سَلْ زَيْدًا أَسَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهِبْتُ أَنَا أَنْ أَسْأَلَهُ فَقَالَ يَا أَبَا أُسَامَةَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُهُ فَكَلَّمْتُهُ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد قباء میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر انصاری لوگوں میں سے کچھ آدمی داخل ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب سلام کہا جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے، سفیان کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے کہا: زید سے پوچھو کہ کیا تم نے عبداللہ بن وہب سے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں ان سے سوال کرتا ہوں، انھوں نے کہا: ا ے ابو اسامہ ! کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے انہیں دیکھا ہے اور ان سے کلام کیا ہے۔