حدیث نمبر: 8259
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ مِنْ قُطْنٍ مُنْتَثِرُ الْحَاشِيَةِ فَقُلْتُ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى سَلَامٌ عَلَيْكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا هَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو تمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں،وہ کہتا ہے: میں مدینہ کے ایک راستہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا، آپ پر کاٹن کا تہبند تھا، جس کا کنارہ پھیلا ہوا تھا، میں نے کہا: عَلَیْکَ السَّلَامُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (آپ پر سلام ہو، اے اللہ کے رسول!) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ کہا کرو، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ۔ یہ الفاظ بھی دو تین بار دوہرائے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں عَلَیْکَ السَّلَامُ کو مردوں کا سلام قرار دے کر اس سے منع کر دیا گیا ہے اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ … کہنے کی تلقین کی گئی ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قبرستان میں جا کر خود اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ … ہی کہا؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8259
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه مطولا ومختصرا ابوداود: 4084، والترمذي: 2722، والنسائي في الكبري : 10150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16051»