حدیث نمبر: 8258
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِلَّا لِلْمَعْرِفَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو سلام اس کی معرفت کی بنا پر ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کو عام کرنے کا حکم دیا ہے،نیز مسلمان کواس لیے سلام کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، جب آدمی ذاتی معرفت کی بنا پر سلام کہے گا تو وہ دراصل اللہ تعالی اور اس کے رسول کا حکم نہیں ہو گا، جبکہ اب وہی کچھ ہو رہا ہے، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کی علامت قرار دیا تھا، اب کسی کو سلام کہنے کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ ذاتی معرفت ہونی چاہیے، اجنبی لوگوں کا معاملہ گونگوں سے زیادہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8258
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، وانظر الحديثيں السابقين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3848»