حدیث نمبر: 8256
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ فَجِئْنَا نَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا رَكَعَ النَّاسُ رَكَعَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَكَعْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ نَمْشِي فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ رَاكِعٌ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ سَأَلَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ لِمَ قُلْتَ حِينَ سَلَّمَ عَلَيْكَ الرَّجُلُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ إِذَا كَانَتِ التَّحِيَّةُ عَلَى الْمَعْرِفَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا اسود بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مسجد میں نماز کھڑی ہوچکی تھی اور ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے آرہے تھے، جب لوگوں نے رکوع کیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بھی رکوع کیا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا، جبکہ ہم چل بھی رہے تھے، اتنے میں ایک آدمی گزرا اور اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! السلام علیکم، یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رکوع کی حالت میں ہی کہا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ (اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے سچ کہا ہے)۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا: جب آپ پر ایک آدمی نے سلام کہا تھا تو آپ نے یہ کیوں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ معرفت کی بنا پر سلام ہو گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى / حدیث: 8256
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 9491 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3664»