الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ فِي اسْتِحْبَابِ تَعْمِيمِ السَّلَامِ وَكَرَاهَةِ تَحْصِيصِهِ بِمَنْ يَعْرَفُ باب: سلام کو عام کرنے کے مستحبّ ہونے اور معرفت والے لوگوں کے لیے¤خاص کرنے کے مکروہ ہونے کا بیان
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ فَجِئْنَا نَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا رَكَعَ النَّاسُ رَكَعَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَكَعْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ نَمْشِي فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ رَاكِعٌ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ سَأَلَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ لِمَ قُلْتَ حِينَ سَلَّمَ عَلَيْكَ الرَّجُلُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ إِذَا كَانَتِ التَّحِيَّةُ عَلَى الْمَعْرِفَةِ۔ سیدنا اسود بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مسجد میں نماز کھڑی ہوچکی تھی اور ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے آرہے تھے، جب لوگوں نے رکوع کیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بھی رکوع کیا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا، جبکہ ہم چل بھی رہے تھے، اتنے میں ایک آدمی گزرا اور اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! السلام علیکم، یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رکوع کی حالت میں ہی کہا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ (اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے سچ کہا ہے)۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا: جب آپ پر ایک آدمی نے سلام کہا تھا تو آپ نے یہ کیوں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ معرفت کی بنا پر سلام ہو گا۔