الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ الْحَقِّ عَلَى السَّلَامِ وَفَضْلِهِ وَكَرَاهَةِ تَرْكِهِ باب: سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ حَالِقَةُ الدِّينِ لَا حَالِقَةُ الشَّعَرِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اندر تم سے پہلی والی امتوں کی بیماری سرایت کر جائے گی اور وہ بیماری حسد اور بغض ہے، یہ دین کو ٹنڈ منڈ کر دینے والی ہے، یہ بالوں کو مونڈنے والی نہیں ہے (یہ تو دین کا ستیاناس کر دیتی ہے)، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم آپس میں محبت نہیں کرو گے اور کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دوں کہ جب تم اس پر عمل کرو گے تو باہمی محبت کرنے والے بن جاؤ گے، پس سلام کو آپس میں عام کرو۔