الفتح الربانی
كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى— سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل
بَابُ الْحَقِّ عَلَى السَّلَامِ وَفَضْلِهِ وَكَرَاهَةِ تَرْكِهِ باب: سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 8250
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْشُوا السَّلَامَ تَسْلَمُوا وَالْأَثَرَةُ أَشَرُّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام عام کرو، تم سلامت رہو گے،صرف بعض لوگوں کو (ملاقات اور سلام کے لیے) ترجیح دینا بدترین بات ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ظاہر بات ہے کہ مسلمان بوقت ِ ملاقات ایک دوسرے کے لیے سلامت و سلامتی اور رحمت و برکت کی دعائیں کریں گے تو نتیجتاً سلامتیاں ہی نصیب ہوں گی، دوسری احادیث کی روشنی میں سلام کی وجہ سے محبت بڑھے گی، ایمان میں اضافہ ہو گا اور جنت میں داخلہ نصیب ہو گا۔