الفتح الربانی
كتاب الادب— آداب کی کتاب
بَابُ مَا يَقُولُ مَنْ عَطَسَ ، وَمَا يَقُولُهُ لَهُ مَنْ حَوْلَهُ، وَمَا يَقُولُ لَهُمْ باب: اس چیز کا بیان کہ چھینکنے والا، اس کے ارد گرد والے اور پھر وہ کون کون سے ذکر کرے
حدیث نمبر: 8247
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رَجُلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ مَزْكُومٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے چھینکا اور (الحمد للہ کہا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا کہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ ، اتنے میں وہ دوسری بار چھینکا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو زکام والا آدمی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت بعض سنن میں بھی ہے، سنن ابن ماجہ کا سیاق مکمل ہے، جو کہ درج ذیل ہے: