حدیث نمبر: 8240
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ يَعْنِي وَالِدَهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَيْتِ ابْنَةِ أُمِّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَعَطَسْتُ فَلَمْ يُشَمِّتْنِي وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا فَلَمَّا جَاءَهَا قَالَتْ عَطَسَ ابْنِي عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْهُ وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا فَقَالَ إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ تَعَالَى فَلَمْ أُشَمِّتْهُ وَإِنَّهَا عَطَسَتْ فَحَمِدَتِ اللَّهَ تَعَالَى فَشَمَّتُّهَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ وَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تُشَمِّتُوهُ فَقَالَتْ أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ ام فضل کی بیٹی ام کلثوم کے گھر میں تھے (یہ ان کی بیوی تھی)، میں نے چھینکا تو والد صاحب نے میرا کوئی جواب نہ دیا، لیکن جب ام کلثوم نے چھینکا تو انھوں نے ان کا جواب دیا، جب میں اپنی ماں کے پاس واپس آیا تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا، جب میرے والد میری ماں کے پاس آئے تو میری والدہ نے کہا: میرے بیٹے نے چھینکا تو تم نے جواب نہیں دیا، لیکن جب ام کلثوم نے چھینکا تو تم نے جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا:جی ہاں، تمہارے بیٹے نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہیں کہا، اس لئے میں نے بھی جواب نہیں دیا اور اس خاتون نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا، تو میں نے بھی اس کا جواب دیا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو تم اس کا جواب دو اور اگر وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہے تو پھر تم جواب نہ دو۔ انھوں نے کہا: پھر تو تم نے اچھا کیا، بہت اچھا کیا۔

وضاحت:
فوائد: … چھینکنے کے آداب اور اس کے اذکار کا بیان ہو رہا ہے، تمام احادیث کا مفہوم واضح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8240
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2992 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19932»