حدیث نمبر: 8237
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ فَعَطَسَ الشَّرِيفُ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَطَسَ الْآخَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ الشَّرِيفُ عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي وَعَطَسَ هَذَا عِنْدَكَ فَشَمَّتَّهُ قَالَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ وَإِنَّكَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے چھینکا،ان میں سے ایک دوسرے کی بہ نسبت زیادہ شرف والا تھا، شرافت والے نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کی چھینک کاجواب نہ دیا اور دوسرے نے چھینکا اوراس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کا جواب دیا، اس شرافت والے نے کہا: میں نے بھی آپ کے قریب چھینکا ہے، لیکن آپ نے میرا جواب نہیں دیا اور اس نے چھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا جواب دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے چھینک کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا، پس میں نے بھی اس کا ذکر کیا اور تو اللہ تعالیٰ کو بھول گیا، پس میں نے بھی تجھے بھلا دیا۔

وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن الفاظ کے ساتھ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہنے والے کو سمجھا رہے ہیں کہ اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہہ کر اللہ تعالی کو بھلایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کے حق میں دعائیہ کلمات نہ کہہ کر اس کو بھلا دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8237
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه البخاري في الادب المفرد : 932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8328»