حدیث نمبر: 8234
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَمَنْ عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَحَقٌّ عَلَى مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا يَقُلْ آهْ آهْ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا فَتَحَ فَاهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ أَوْ بِهِ قَالَ حَجَّاجٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِهِ وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، جو آدمی چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو سننے والے پر حق ہے کہ وہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہے اور جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اسے مقدور بھر روکے اور آہ آہ کی آواز نہ نکالے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی منہ کھولتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے۔ حجاج کے روایت میں ہے : رہا مسئلہ جمائی کا، تو یہ شیطان کی طرف سے ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8234
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3289، 6223، 6226 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9526»